بنگلورو، 18 جون (ایس او نیوز / ایجنسی):ریاست کرناٹک میں توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کئی اہم اعلانات کیے ہیں۔ منگل کے روز کے پی ٹی سی ایل (کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ) کے ملازمین کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ توانائی میں 35 ہزار خالی سرکاری اسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر سدارامیا نے تقریب کا افتتاح کیا اور "وجرجیوتی" یادگار مجلہ کی رسم اجرا انجام دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کے پی ٹی سی ایل کے 532 صفائی ملازمین کی ملازمتیں مستقل کی جا رہی ہیں، اور دیگر تمام جائز مطالبات پر بھی غور کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے پنشن پالیسی کے حوالے سے واضح کیا کہ مرکز کی جانب سے نافذ نیشنل پنشن اسکیم (این پی ایس) کے باوجود ریاستی حکومت اپنے منشور میں کیے گئے وعدے کے مطابق اولڈ پنشن اسکیم (او پی ایس) کو نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کے پی ٹی سی ایل یونین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے 1964 سے ملازمین کے حقوق اور فلاح کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے اور ریاست میں بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں سب سے پہلے 1902 میں بجلی کی پیداوار کرناٹک میں ہوئی تھی، اور 1905 میں بنگلورو میں بجلی کی سپلائی کمپنی قائم کی گئی تھی۔ آج ریاست 34 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے ساتھ نمایاں مقام رکھتی ہے۔ حکومت کا نیا ہدف 60 ہزار میگا واٹ ہے، جس کے حصول کے بعد کسانوں کو دن کے وقت کم از کم سات گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ریاستی ملازمین اور مزدور دیانتداری سے کام کر رہے ہیں، اور حکومت ان کے تمام جائز مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ حکومت کو ملازمین کے تعاون کی بھی توقع ہے تاکہ ریاست کی ترقی کا سفر مسلسل جاری رہے۔