نئی دہلی: 23 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) ہریانہ سے لے کر دہلی کے ایمس میں کئی گھوٹالوں کا انکشاف کرکے سیاسی اور انتظامی کوریڈور کو ہلا دینے والے وہسل بلوور افسر سنجیو چترویدی کے کیس کی سماعت سے اب تک بہت سے جج الگ ہو چکے ہیں۔تازہ معاملہ کیٹ چیئرمین جسٹس ایل نرسمہن ریڈی کا ہے۔حالانکہ جسٹس ریڈی نے کیس سے الگ ہونے کی وجوہات کا انکشاف کیا ہے، دیگر ججوں کے حکم میں اس بات کا واضح ذکر نہیں ہے کہ انہوں نے کن وجوہات سے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کیا۔سنجیو چترویدی سے منسلک مختلف مقدموں میں اب تک سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سے لے کر سی جے ایم سطح کے جج خودکو الگ کر چکے ہیں۔مرکزی انتظامی ٹربیونل (کیٹ) کے چیئرمین جسٹس ایل نرسمہن ریڈی نے 29 مارچ کو جاری اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ چترویدی کے زیر التواء چار اقساط کی سماعت سے خود کو الگ کرتے ہیں حکم میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک بہت ہی نایاب کیس ہے جس میں بہت ہی بدقسمت واقعات رونما ہو رہے تھے۔ جس کی وجہ سے چیئرمین کے عہدے کی شبیہہ ہی داؤ پر لگ گئی تھی۔ان حالات کی وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ مدعی اس کورٹ کے مقام پر کسی دیگر کورٹ میں اپنے کیس کی سماعت کے لئے رپورٹ دائر کرے۔اسی کے ساتھ جسٹس ریڈی نے رجسٹرار کے ذریعے یہ حکم بھی دیا کہ مدعی کو اس درخواستوں سے متعلق فائل واپس کر دی جائے تاکہ وہ قانون کے مطابق کسی دوسرے کورٹ میں دائر کر سکے۔کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کا حکم شاید پہلی بار دیا گیا ہو، جب جج نے کیس کی فائل تک مدعی کو لوٹانے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی شروعات جولائی 2018 میں دی گئی جسٹس ریڈی کے اس حکم سے ہوئی جس میں انہوں نے سنجیو چترویدی کی اے سی آر کے معاملے میں نینی تال کیٹ میں چل رہی سماعت کو چھ ہفتے کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔اس وقت چترویدی کو مرکزی حکومت نے تربیت کے لئے فن لینڈ بھیجا گیا تھا۔اس حکم کو چترویدی نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر ہائی کورٹ نے مرکز اور ایمس کے رویہ کو پہلی نظر میں بدلہ لینے والا بتاتے ہوئے 25 ہزار کا جرمانہ بھی لگایا۔ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح حکم دیا کہ سنجیو چترویدی کے اے سی آر کے معاملے کی سماعت نینی تال کیٹ میں ہی ہوگی۔اس فیصلہ کو ایمس نے چیلنج کیا ، جس نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 25 ہزار کا اور جرمانہ عائد۔اس دوران جسٹس ریڈی نے 29 مارچ کو اس معاملے سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، جب کانگریس اور بی جے پی دونوں حکومتوں میں بدعنوانی کے معاملات کو ظاہر کرنے کی وجہ سے حکومتوں کی آنکھ کی کرکری بنے سنجیو چترویدی کے حساس کیس کی سماعت سے کسی جج نے خود کو الگ کیا ہو۔اس سے پہلے سپریم کورٹ کے اس وقت کے جج رنجن گوگوئی نے ستمبر 2013 میں سنجیو چترویدی کے ذریعہ ہریانہ کے اس وقت کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا اور ان کی حکومت کے دیگر وزراء اور افسروں کے خلاف سی بی آئی جانچ کے لئے دائر درخواست کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔اس کیس میں ہریانہ حکومت کی طرف سے وکیل کے طور پر روہٹن نریمن موجود تھے، جو بعد میں سال 2015 میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔اس کے بعد اگست 2016 میں سپریم کورٹ کے جج یویو للت نے بھی اس کیس سے خود کو الگ کر لیا تھا۔جون 2017 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کے ایم جوزف (اب سپریم کورٹ میں جج) نے بھی کیس کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے معاملے کو کیٹ بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح اپریل 2018 میں شملہ کی زیریں عدالت کے جج نے سنجیو چترویدی کے خلاف ہماچل پردیش کے اس وقت کے چیف سکریٹری ونیت چودھری کی طرف سے دائر فوجداری ہتک عز ت کے معاملے سے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے خود کو الگ کر لیا گیا تھا۔