ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ادت راج کا بی جے پی نے کاٹا ٹکٹ، گلوکار ہنس راج ہنس شمال مغربی دہلی سے امیدوار

ادت راج کا بی جے پی نے کاٹا ٹکٹ، گلوکار ہنس راج ہنس شمال مغربی دہلی سے امیدوار

Wed, 24 Apr 2019 01:06:15    S.O. News Service

نئی دہلی: 23 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات 2019 کے پیش نظر بی جے پی نے دہلی میں اپنے ساتویں امیدوار کے طور پر گلوکار ہنس راج ہنس کو شمال مغربی دہلی سے اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔مشہور پنجابی گلوکارہنس راج ہنس بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر شمال مغربی دہلی لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔اس فیصلے سے ناراض ادت راج نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے ٹکٹ نہیں دیا، اب میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔غور طلب ہے کہ ہنس راج ہنس سال 2016 میں ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔بتا دیں کہ ادت راج نے اس سیٹ سے موجودہ ایم پی ہیں۔یعنی دہلی کی اس سیٹ سے ہنس راج کے الیکشن لڑنے کا مطلب ہے کہ بی جے پی سے ادت راج کی امید ختم ہوچکی ہے جسے لے کر کچھ دنوں سے ادت راج ناراض بھی دکھائی دے رہے تھے۔بی جے پی نے بھی بیان جاری کر کے کہہ دیا ہے کہ ہنس راج ہنس ہی اس سیٹ سے ان کے امیدوار ہوں گے۔سنگر ہنس راج ہنس بی جے پی سے پہلے کئی اور سیاسی جماعتوں میں رہ چکے ہیں۔سنگر ہنس راج ہنس نے اپنے سیاسی پارٹی کی ابتدا شرومنی اکالی دل سے کی تھی۔وہ سال 2009 میں جالندھر لوک سبھا سیٹ سے انتخابات بھی لڑے تھے، مگر اس میں ان کو شکست ہوئی تھی۔پھر وہ بعد میں کانگریس میں بھی شامل ہوئے تھے۔اور اب سال 2016 کے بعد وہ بی جے پی میں ہی ہیں۔لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کی طرف سے ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض لیڈرادت راج نے پارٹی سے استعفی دینے کی دھمکی دی ہے۔انہوں کہا کہ کیجریوال کا فون آیا تھا۔آج میں نے کال کیا تھا وہ ہنس رہے تھے کہ انہوں نے 4 ماہ پہلے مجھے خبردار کیا کہ مجھے ٹکٹ نہیں ملے گا۔میں نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیسے معلوم تھا؟ راہل گاندھی نے بھی 2 بار پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ آپ غلط پارٹی میں ہیں۔اسے چھوڑ دو۔شمال مغربی دہلی سے بی جے پی کے رہنما ادت راج نے اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چوکیدارکا لفظ ہٹا لیا ہے۔


Share: