بنگلورو، 9 نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی)نائب وزیراعلیٰ اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمارنے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں جعلسازی جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے اور اسی کے خلاف کانگریس پارٹی نے ملک گیر سطح پر ایک مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک میں اب تک ایک کروڑ بارہ لاکھ چالیس ہزار (1,12,40,000)دستخط جمع کیے جا چکے ہیں، جو عوام کے ووٹ کے حق کے تحفظ کے عزم کی علامت ہیں۔
بنگلورو کےبھارت جوڑو بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ ریاست کے تمام اضلاع اور اسمبلی حلقوں میں کانگریس کارکنوں نے بوتھ سطح پر گھر گھر جا کر دستخط جمع کیے اور ووٹ چوری کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دستخطی درخواستیں 10 نومبر کو دہلی روانہ کی جائیں گی، جہاں تمام ریاستوں کے صدور انہیں مرکزی قیادت کے حوالے کریں گے۔ اس کے بعد 25 نومبر کو دہلی کےرام لیلا میدان میں ایک عظیم عوامی اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا، تاکہ اس مہم کو قومی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
شیوکمار نے کہا کہ مہم کے بعض حصے ابھی باقی ہیں، اس لیے جہاں مکمل نہیں ہو سکی وہاں مزید تین سے چار دن کی مہلت دی گئی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کمیشن خود انتخابی بدعنوانیوں میں شریک ہے۔ ان کے مطابق، ’’جب ہم نے ووٹ فہرست میں جعلسازی کے ثبوت پیش کیے تو کمیشن نے ہم ہی سے مزید ثبوت مانگ لیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے پارٹی بلدیاتی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے پر غور کر رہی ہے۔
نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ راہل گاندھی اور اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے کی قیادت میں جمہوریت، آئین اور ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں دستخطی مہم جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہادیوپورہ اسمبلی حلقہ میں تحقیقات کے دوران ایک لاکھ سے زائد جعلی ووٹوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں بعض پتوں پر 70 سے 80 ووٹ درج پائے گئے۔ گاندھی نگر اور دیگر حلقوں میں بھی اسی طرح کے سازشانہ اندراجات سامنے آئے ہیں، جن سے اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور دلت ووٹروں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
شیوکمار نے بتایا کہ الند اسمبلی حلقہ میں 6 ہزار سے زائد ووٹوں کو حذف کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس معاملے کی تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’’اس سازش میں بیرونی ریاستوں کے افراد کے فون نمبرز استعمال کیے گئے اور فی ووٹ 80 روپے کے عوض نام ہٹانے کی کارروائی کی گئی۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی امیدوارسبرش گتےدار نے اس معاملے کے ثبوت مٹانے کے لیے کئی دستاویزات جلانے کی کوشش کی۔
مزید کہا گیا کہ تحقیقات کے دوران بی جے پی کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں غیرقانونی تبدیلی کے لیے نجی کمپنی ’چلومے‘ کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ جلد منظرِ عام پر لائی جائے گی۔
شیوکمار نے کہا کہ راہل گاندھی نے ہریانہ میں بھی ووٹ دھاندلی کے بڑے ثبوتپیش کیے ہیں، جس کا مقصد جمہوریت اور آئین کا تحفظ ہے۔ ’’یہ تحریک صرف کانگریس کی نہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی جدوجہد ہے،‘‘ انہوں نے زور دیا۔
ایک سوال کے جواب میں شیوکمار نے کہا کہ ’’ہم نے الیکشن کمیشن سے بارہا معلومات طلب کیں، مگر وہ تعاون نہیں کر رہا۔ اگر کمیشن مطلوبہ دستاویزات فراہم کرے تو ہم حلفیہ بیان دینے کو بھی تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے آخر میں کہا کہ ’’الیکشن کمیشن اب بی جے پی کا ایجنٹ بن چکا ہے، لیکن ہم عوام کو حقیقت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ جمہوریت کے تحفظ کی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘
شیوکمار نے بتایا کہ پارٹی ایک ہفتے کے اندر ریاستی سطح پر نئی کارپوریشنوں اور بورڈ ممبران کے تقرر کا اعلان کرے گی، تاکہ کارکنوں کو ان کی کارکردگی کے مطابق ذمہ داریاں دی جا سکیں۔