بنگلورو ، 8/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاست میں اَنّا بھاگیہ اسکیم کے چاول کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور فروخت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں 570 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بات وزیرِ خوراک، شہری رسد، صارفین کے امور اور محکمۂ قانونی پیمائش کے۔ ایچ۔ منی اپا نے قانون ساز کونسل میں بتائی۔
رکنِ کونسل سی۔ ٹی۔ روی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے دوران 29,603.15 کوئنٹل چاول ضبط کیا گیا ہے جبکہ 314 گاڑیوں کو بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔وزیر نے مزید بتایا کہ یادگیر ضلع میں محکمۂ خوراک میں دیگر محکموں سے ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کو اُن کے فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح کوپل ضلع کے گنگاوتی تعلقہ میں کے ایف سی ایس سی کے گودام کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے چاول کی ناجائز ذخیرہ اندوزی اور فروخت روکنے کے لیے محکمہ کے افسران اور عملے کو سخت نگرانی کی ہدایات دی گئی ہیں اور ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت فوجداری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
مسٹر منی اپا نے خبردار کیا کہ اگر راشن کارڈ ہولڈرز اپنے حصے کے راشن چاول کا غلط استعمال کرتے پائے گئے تو اُن کے راشن کارڈ منسوخ کر دیے جائیں گے اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ریاست میں راشن ڈپوز، تعلقہ، ضلع اور ریاستی سطح پر ویجلنس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو تقسیمِ راشن کی نگرانی کر رہی ہیں۔ہر ماہ فیئر پرائس شاپ سطح پر فوڈ کورٹ کے ذریعے عوام میں راشن تقسیم سے متعلق آگاہی پیدا کی جا رہی ہے۔ریاستی سطح پر فوڈ ایوئرنیس اسکواڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے جو غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں انجام دے رہا ہے۔