بنگلورو، 8 ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی):کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے نوجوان قائدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ سیاست میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے پارٹی کو بوتھ سطح سے مضبوط کریں اور اپنی تنظیمی صلاحیت کا ثبوت دیں۔ وہ اتوار کو کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ ریاستی یوتھ کانگریس کی ایگزیکٹیو میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔
شیوکمار نے اپنے سیاسی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی محض تعلقات یا سہاروں کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھے بلکہ اپنی تنظیمی قوت اور جدوجہد کے بل بوتے پر ترقی کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب رام کرشنا ہیگڑے وزیر اعلیٰ تھے اور انہوں نے ان کے خلاف تحریک چلائی تو کانگریس نے انہیں ساتنور حلقے سے ٹکٹ دیا، جس کے بعد وہ آٹھ مرتبہ اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔
انہوں نے نوجوانوں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ انتخاب جیتنے میں دولت نہیں بلکہ تنظیمی طاقت سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق اگر تیز جانا ہو تو اکیلے جایا جا سکتا ہے لیکن اگر دور جانا ہو تو سب کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ شیوکمار نے کہا کہ محض بڑے لیڈروں کے پیچھے دوڑنے سے کوئی فائدہ نہیں، نوجوانوں کو خود اپنی قیادت ابھارنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یوتھ کانگریس اور اسٹوڈنٹ کانگریس کی تربیت حاصل کرنے والے کبھی پارٹی کو نہیں چھوڑتے بلکہ وہ پارٹی اور ملک کے لیے اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔ شیوکمار نے مزید کہا کہ 73ویں اور 74ویں آئینی ترمیم کے بعد مقامی ادارے وجود میں آئے جس سے ہزاروں نئے لیڈر پیدا ہوئے، اور اب بنگلورو میں نئے کارپوریشنز کے قیام سے مزید پانچ سو سے زائد نئے قائدین سامنے آئیں گے۔
انہوں نے 2028 کے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یوتھ کانگریس سمیت پارٹی کے تمام ونگس پوری لگن اور سنجیدگی کے ساتھ کام کریں تو کانگریس کا دوبارہ اقتدار میں آنا یقینی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں کو یاد دلایا کہ کانگریس نے ملک کو آئین، ترنگا، جمہوریت اور عوامی فلاح کی درجنوں اسکیمیں دیں، جنہیں کوئی بھی حکومت ختم نہیں کرسکی۔
راہول گاندھی، سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانیوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ وراثت یاد رکھنی چاہیے۔ انتخابی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ راجیو گاندھی نے ووٹنگ کی عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کردی، جو ایک انقلابی تبدیلی تھی اور اسے کبھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ پچھلے انتخابات کے دوران ’’چلومے ادارہ‘‘ کے ذریعے بی ایل او کی غیر قانونی بھرتی کی گئی تھی، لیکن کانگریس نے اس کے خلاف جدوجہد کی اور اس عمل کو رکوانے میں کامیابی حاصل کی۔