بلاری ، 8/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)بلاری میں گنگاوتی کے رکنِ اسمبلی جناردھن ریڈی کی رہائش گاہ کے سامنے بینر لگانے کے معاملے پر پیش آنے والے تشدد آمیز واقعے کے سلسلے میں ایک اور اعلیٰ پولیس افسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ حکومتِ کرناٹک نے بلاری رینج کی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ورتھیکا کٹیار کا تبادلہ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسی معاملے میں بلاری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پون نجور کو معطل کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے انتظامی سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل کرتے ہوئے پی ایس ہرشا کو بلاری رینج کا نیا آئی جی اور ڈاکٹر سمن ڈی پینیکر کو بلاری کا نیا ایس پی مقرر کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پون نجور نے یکم جنوری کو بلاری ایس پی کے طور پر شوبھارانی سے عہدہ سنبھالا تھا، تاہم بینر تنازعہ کے دوران حالات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے میں ناکامی کے الزام میں انہیں معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح اس وقت کی بلاری رینج آئی جی ورتھیکا کٹیار پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے واقعے کی سنگینی سے اعلیٰ حکام کو بروقت آگاہ نہیں کیا۔
اس سلسلے میں ڈی جی اور آئی جی پی کی جانب سے حکومت کو ایک رپورٹ ارسال کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر حکومت نے ورتھیکا کٹیار کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاری بینر فساد معاملے میں اب تک 26 افراد اور ایک نجی گن مین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس نے تشدد کے دوران استعمال ہونے والی گولیاں اور شیشے کی بوتلیں بھی ضبط کر لی ہیں، جبکہ دیگر مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے تفتیش اور چھاپہ ماری کی کارروائیاں جاری ہیں۔