میسورو، 31 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ دسہرا صرف ایک مذہب یا برادری کا نہیں بلکہ یہ سب کا تہوار ہے، جسے ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگ مل جل کر مناتے ہیں۔ اسی لیے اس بار مشہور کنڑا ادیبہ اور سماجی کارکن، بُوکر پرائز یافتہ بانو مشتاق سے دسہرا کا افتتاح کرانا بالکل مناسب اور قابلِ فخر فیصلہ ہے۔
میسورو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں بھی مشہور شاعر نثار احمد سے دسہرا کا افتتاح کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تہوار کسی ایک مذہب تک محدود نہیں، بلکہ ہندو، مسلم، عیسائی، جین اور بدھ سبھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ حیدر علی، ٹیپو سلطان اور دیوان مرزا اسماعیل نے بھی اپنے ادوار میں دسہرا منایا تھا۔ یہ تہوار حقیقت میں مذہب و ذات پات سے بالاتر ایک عظیم ثقافتی جشن ہے۔‘‘
بی جے پی کی جانب سے بانو مشتاق کے انتخاب پر اٹھائے گئے اعتراضات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوال اٹھانے والے تاریخ سے نابلد ہیں۔ ’’اگر بانو مشتاق کے دل میں کنڑ زبان و تہذیب کے لیے محبت نہ ہوتی تو وہ کنڑ میں تخلیق کیسے کرتیں؟ بی جے پی والے صرف سیاست کر رہے ہیں اور سماج کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
اپوزیشن لیڈر آر اشوک کے اس طنزیہ بیان پر کہ "وہ (بانو مشتاق) گوشت کھانے کے بعد آئیں گی"، وزیر اعلیٰ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ’’ڈھونگی باتیں‘‘ ہیں اور ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ سدارامیا نے مزید بتایا کہ حکومت نے دیپا بستی کو بھی بانو مشتاق کے ساتھ ہی 10 لاکھ روپے کے سرکاری اعزاز سے نوازا ہے۔
دھرمستھلا معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کا فیصلہ خود دھرمادھیکاری ویریندر ہیگڈے نے سراہا ہے تاکہ سچائی سامنے آئے اور دھرمستھلا پر شک کا دائرہ ختم ہو۔ انہوں نے بی جے پی کی ’’دھرم یاترا‘‘ کو محض سیاسی حربہ قرار دیا۔
جی ایس ٹی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کے دوہری سلیب نظام کی وجہ سے کرناٹک کو ہر سال تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لگژری اشیاء اور تمباکو مصنوعات جیسے سگریٹ، گٹکا، پان مسالہ اور مہنگی گاڑیوں پر خصوصی سیس لگایا جائے تاکہ ریاست کو معاوضہ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو جی ایس ٹی کے تحت 11,950 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تب بی جے پی کے کسی رکن پارلیمنٹ نے آواز نہیں اٹھائی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی وضاحت کی کہ جائیداد کی رجسٹریشن فیس میں معمولی ایک فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کرناٹک کو دیگر جنوبی ریاستوں کے برابر لایا جا سکے۔
سدارامیا نے دوٹوک کہا کہ دسہرا صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ کرناٹک کی مشترکہ ثقافت، اتحاد اور ہم آہنگی کی پہچان ہے، اور بانو مشتاق کا انتخاب اسی اتحاد کی علامت ہے۔