بنگلور، 28 اکتوبر (ایس او نیوز ): وزیراعلیٰ سدارامیا نے پولیس اہلکاروں کو نئی پیک کیپ (Peak Cap) تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ کہ صرف وردی یا ٹوپی بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ مزید تندہی اور کارکردگی کے ساتھ خدمات انجام دینی ہوں گی۔ ودھان سودھا کے بینکوئٹ ہال میں محکمہ داخلہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں پولیس اہلکاروں کو نئی پیِک کیپ تقسیم کرنے کے ساتھ انہوں نے اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس و سنمتر پروگرام کا بھی افتتاح کیا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تقریباً ستر برسوں سے استعمال کی جانے والی پرانی ٹوپی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں، اس لیے نئی ٹوپی کا انتخاب کیا گیا ہے، جو رنگ میں نیلی ہے مگر سینئر افسران کی ٹوپی جیسی ہی ڈیزائن رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ ٹوپی آپ کے اعتماد اور عزتِ نفس میں اضافہ کرے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کی پولیس نے ملک میں "انڈیا جسٹس انڈیکس" میں پہلا مقام حاصل کیا ہے، جو فخر کی بات ہے۔ اب ریاست کو منشیات سے پاک بنانے کی ذمہ داری بھی پولیس پر عائد ہوتی ہے۔
نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس موقع پر کہا کہ پولیس کانسٹیبلز کو نئی ٹوپی دینا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا، "سرحد پر فوجی ہماری حفاظت کرتے ہیں، تو ملک کے اندر پولیس اہلکار ہماری سلامتی کے محافظ ہیں۔"

محکمہ داخلہ کے وزیر ڈاکٹر جی. پرمیشور نے بتایا کہ 2015 سے ہی کانسٹیبلز کے لیے نئی ٹوپی کی تجویز زیر غور تھی، اور مختلف ریاستوں کی ٹوپیوں کا جائزہ لینے کے بعد وزیر اعلیٰ نے خود اس نیلی ٹوپی کو منتخب کیا۔
اسی موقع پر اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ریاست کو منشیات سے پاک بنایا جا سکے، جب کہ پولیس اہلکاروں کے لیے "ہیلتھ اسکیم" اور شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضہ اسکیم کی ہدایت نامے بھی جاری کیے گئے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد، رکن اسمبلی رضوان ارشد، چیف سیکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش، پولیس ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اے۔ ایم۔ سلیم، اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔