بنگلور 7/جنوری (ایس او نیوز) : کرناٹک کے دیہی ترقی اور پنچایت راج کے وزیر پرینک کھڑگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو ایک غیر آئینی، غیر رجسٹرڈ اور قواعد و ضوابط سے باہر کام کرنے والی تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تنظیم سے انہیں ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے پرینک کھڑگے نے کہا کہ دھمکانا، ڈرانا اور عدالتوں کا سہارا لینا آر ایس ایس کی حکمتِ عملی رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آر ایس ایس آخر تنظیم کو رجسٹر کروانے سے کیوں گھبرا رہی ہے؟ اتنی بڑی مقدار میں چندہ کہاں سے آ رہا ہے؟
انہوں نے مزید سوال کیا کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو وہ اعلیٰ سطحی اے ایس ایل سیکورٹی کیوں فراہم کی جا رہی ہے جو عام طور پر مرکزی وزرائے داخلہ یا خارجہ کو دی جاتی ہے، جبکہ یہ لوگ ٹیکس دہندگان نہیں ہیں۔ پرینک کھڑگے نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو ان کی سیکورٹی پر بے دریغ خرچ کیوں کیا جا رہا ہے؟
وزیر نے کہا کہ ان سوالات کو اٹھانے پر ان کے خلاف ملک بھر میں ہتکِ عزت کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، لیکن چاہے کتنے ہی کیس کیوں نہ دائر کیے جائیں، ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور آر ایس ایس کی حقیقت آج نہیں تو کل سامنے آ کر رہے گی۔
پرینک کھڑگے نے کہا کہ کسی تنظیم کا سو سال پرانا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ اگلے سو سال بھی بغیر آئینی حدود کے چلتی رہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر تنظیم کو آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اندر بدھ، بسوَنّا اور ڈاکٹر امبیڈکر کی تعلیمات اور جدوجہد کا خون شامل ہے، اور آر ایس ایس سے سیکھنے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔