بنگلورو، 27 اکتوبر (ایس او نیوز): وزیر پریانک کھڑگے کی جانب سے وزیراعلیٰ سدرامیا کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا گیا تھا کہ ریاست میں عوامی مقامات پر آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ اسی کے فوراً بعد کانگریس حکومت نے ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے آر ایس ایس سمیت دیگر تنظیموں کو سرکاری مقامات پر اپنے پروگرام منعقد کرنے سے روک دیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے سے ایک طرف ریاستی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، تو دوسری جانب بی جے پی اور کانگریس لیڈران کے درمیان زبردست الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس دوران ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اور پیش رفت نے تنازع کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق حکومت نے تپتور کے آر ایس ایس کارکن ڈاکٹر شری دھر کمار کو یشسونی کوآپریٹیو ممبرز ہیلتھ پروٹیکشن ٹرسٹ کا رکن مقرر کیا ہے، جو کانگریس کارکنوں کے لیے شدید ناراضگی کا باعث بن گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے این راجنا کے استعفیٰ کے بعد محکمۂ تعاون (Cooperation Department) کا چارج فی الوقت وزیراعلیٰ سدرامیا کے پاس ہے، اور اسی محکمے کے تحت آنے والے یشسونی کوآپریٹیو ممبرز ہیلتھ پروٹیکشن ٹرسٹ میں ڈاکٹر شری دھر کمار کی تقرری وزیراعلیٰ کے حکم پر عمل میں آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس تقرری پر کانگریس کارکنوں نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ فوراً اس رکنیت کو منسوخ کریں۔
ادھر، ریاست کے چند سرکاری ملازمین کے آر ایس ایس پریڈ میں شامل ہونے کے معاملے پر بھی ریاستی کابینہ میں شدید بحث ہوئی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے ایک نیا ضابطہ جاری کیا ہے، جس میں اگرچہ آر ایس ایس کا نام براہ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس کے مطابق سرکاری اور کنٹریکٹ ملازمین کو کسی بھی تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
ایسے میں آر ایس ایس پریڈ میں شرکت کرنے والے چند سرکاری ملازمین کو معطل بھی کیا گیا ہے، جس سے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ مزید تیز ہو گئی ہے۔
اگرچہ حکومت نے یہ ضابطہ تمام تنظیموں پر لاگو بتایا ہے تاکہ سیاسی تنازع سے بچا جا سکے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ عملاً یہ قدم آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے مقصد سے ہی اٹھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔