ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو: چیف جسٹس گوائی کے خلاف مبینہ توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس، 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج

بنگلورو: چیف جسٹس گوائی کے خلاف مبینہ توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس، 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج

Tue, 14 Oct 2025 11:12:39    S O News

بنگلورو، 14؍اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی پر مبینہ حملے کی کوشش کے بعد بنگلور وکی سائبر کرائم پولیس نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف توہین آمیز پوسٹس کرنے والے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی 6اکتوبر کے واقعے کے چند دن بعد عمل میں آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سائبر کرائم پولیس نے کیسری نندن، سریدھر کمار، ناگیندر پرساد، رمیش نائک اور منجوناتھ ایم سی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی ان دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جو جان بوجھ کر توہین، امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے اور اشتعال انگیزی سے متعلق ہیں۔ واضح رہے کہ ایک سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل کے افسر نے فیس بک پر توہین آمیز تبصرے دیکھنے کے بعد ازخود کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔

6 اکتوبر کو دہلی کے وکیل راکیش کشور نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس بی آر گوائی پر مبینہ طور پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی تھی۔ کشور نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس نے ہندو مذہب کی توہین کی ہے۔ ان کے مطابق، وہ وشنو دیوتا کی ’’سر قلم شدہ مورتی‘‘ کی بحالی سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ناراض تھے جس میں تعزیری انہدام (پینل ڈیمولیشن) کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

حملے کی کوشش کے دو دن بعد، ایک وکیل کی شکایت پر بنگلور کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں راکیش کشور کے خلاف صفر ایف آئی آر درج کی گئی۔ شکایت میں کہا گیا کہ اس اقدام سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، اس لئے ’’عدلیہ کی شبیہ کے تحفظ‘‘ کیلئے کارروائی ضروری ہے۔ خیال رہے کہ صفر ایف آئی آر کسی بھی پولیس اسٹیشن میں درج کی جا سکتی ہے، چاہے جرم کہیں بھی ہوا ہو، اور بعد میں اسے متعلقہ دائرہ اختیار والے اسٹیشن کو منتقل کیا جاتا ہے۔

کشور پر سرکاری افسر پر حملہ یا ڈیوٹی سے روکنے کیلئے مجرمانہ طاقت کے استعمال اور کسی شخص کی بے عزتی کیلئے طاقت کے استعمال سے متعلق بی این ایس کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف تبصروں کے بڑھتے رجحان اور آن لائن نفرت انگیزی کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔


Share: