ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / گلبرگہ رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے بی جے پی پر لگایا الزام؛ کہا: ووٹ چوری سے توجہ ہٹانے کے لئے آسام میں مسلمانوں کو بنایا جارہا ہے نشانہ

گلبرگہ رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے بی جے پی پر لگایا الزام؛ کہا: ووٹ چوری سے توجہ ہٹانے کے لئے آسام میں مسلمانوں کو بنایا جارہا ہے نشانہ

Tue, 02 Sep 2025 17:44:23    S O News
گلبرگہ رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے بی جے پی پر لگایا الزام؛ کہا: ووٹ چوری سے توجہ ہٹانے کے لئے آسام میں مسلمانوں کو بنایا جارہا ہے نشانہ

گلبرگہ، 2 ستمبر (ایم اے حکیم شاکر/ایس او نیوز): گلبرگہ کی رکن اسمبلی اور کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن کی چیئرپرسن کنیز فاطمہ نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ ووٹ چوری کے معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے آسام میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت آئندہ انتخابات سے قبل ہندو ووٹ کو مضبوط کرنے کے لئے مختلف منصوبہ بند سازشیں کر رہی ہے، جن میں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ کنیز فاطمہ نے کہا کہ آسام میں مسلمانوں کے خلاف بار بار تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، حالانکہ کئی متاثرہ خاندان نسل در نسل سے وہاں مقیم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسام میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر منصفانہ سلوک، مذہبی بنیاد پر تعصب اور نفرت انگیز بیانات نے اس پورے عمل کو انسانی ہمدردی اور انصاف کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ آسام کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، جس میں انہوں نے حضرت مولانا ارشد مدنی کو دھمکی دی تھی کہ ’’اگر میرا بس چلے تو میں مولانا ارشد مدنی کو بنگلہ دیش بھیج دوں‘‘، کنیز فاطمہ نے سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا ارشد مدنی کے آبا و اجداد نے آزادیٔ ہند کی جدوجہد میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ مولانا آج بھی مسلمانانِ ہند کی ایک مضبوط آواز ہیں اور ان کا شمار ملک کی بااثر مسلم شخصیات میں ہوتا ہے۔

کنیز فاطمہ نے یہ بھی کہا کہ آسام حکومت کے اقدامات کی سنگین مثال یہ ہے کہ اب تک اُجاڑے گئے 50 ہزار سے زائد خاندان سو فیصد مسلمان ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئینِ ہند سے متصادم ہے بلکہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں صاف طور پر مسلم دشمنی پر مبنی ہیں۔

مزید کہا کہ ملک کی آزادی کی جنگ ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر لڑی تھی، اسی طرح نفرت کے خلاف بھی ہمیں متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ ملک نفرت سے نہیں بلکہ پیار و محبت سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ جب تک بھائی چارہ، اتحاد اور محبت باقی ہے ملک ترقی کرتا رہے گا، لیکن اگر نفرت کو شکست نہ دی گئی تو یہ ملک ترقی کے بجائے پیچھے رہ جائے گا۔


Share: