
بنگلورو، 31/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک حکومت نے ڈاکٹر ایم اے سلیم کو ریاست کا مستقل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) مقرر کر دیا ہے۔ ہفتہ 30 اگست کو جاری سرکاری نوٹیفکیشن میں ان کی تقرری کی باضابطہ تصدیق کی گئی۔
ڈاکٹر سلیم 21 مئی سے سابق ڈی جی پی آلوک موہن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے انچارج ڈی جی پی کی اضافی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ ان کی مستقل تقرری اس وقت عمل میں آئی جب کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) نمٹا دی، جس میں مستقل ڈی جی پی کی تقرری میں تاخیر کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس عرضی میں سپریم کورٹ کے 1996 کے پرکاش سنگھ کیس کے مطابق جلد از جلد عمل مکمل کرنے اور یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کو اہل آئی پی ایس افسران کی فہرست جلد پیش کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
پیر 28 اگست کو ہائی کورٹ نے یہ عرضی خارج کر دی جب ایڈوکیٹ جنرل کے ششی کرن شیٹی نے یقین دہانی کرائی کہ یو پی ایس سی کی جانب سے اہل افسران کی فہرست ملتے ہی ایک ہفتے کے اندر مستقل ڈی جی پی تعینات کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس ویبھو بکرُو اور جسٹس سی ایم جوشی پر مشتمل بنچ نے نوٹ کیا کہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، اس لیے مزید ہدایات دینے کی ضرورت نہیں۔27.0
ڈاکٹر ایم اے سلیم، جو 1993 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں، اس سے قبل کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں سی آئی ڈی کے ڈی جی پی، میسورو پولیس کمشنر، بنگلورو میں اسپیشل کمشنر آف پولیس (ٹریفک) اور انسداد بدعنوانی بیورو کے سربراہ شامل ہیں۔ وہ ٹریفک مینجمنٹ، سائبر کرائم کے خلاف کارروائی اور خواتین و کمزور طبقات کی سلامتی کے لیے اصلاحات نافذ کرنے کے حوالے سے اپنی کامیاب کارکردگی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
اپنی تقرری کے بعد ڈاکٹر سلیم نے کہا، ’’میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال رہا ہوں۔ میری اولین ترجیح ریاستی پولیس فورس کو شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ڈی جی پی کے طور پر ان کی توجہ ملک دشمن سرگرمیوں پر قابو پانے، عوامی سلامتی کو بہتر بنانے اور شہریوں کی پولیس کاری میں شمولیت بڑھانے پر مرکوز ہوگی۔
ڈاکٹر سلیم کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں 2009 میں صدر جمہوریہ کا میڈل برائے قابلِ ذکر خدمات اور 2017 میں ڈسٹنگوشڈ سروس میڈل سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ کرناٹک پولیس قیادت میں استحکام آئے گا اور ریاست میں جدید طرز کی پولیسنگ کے ساتھ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔