بیلگاوی، 18 دسمبر (ایس او نیوز): کرناٹک قانون ساز اسمبلی نے نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) اور نفرت پر مبنی جرائم (ہیٹ کرائم) کی روک تھام کے لیے کرناٹک نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم (انسداد) بل منظور کر لیا۔ یہ بل اپوزیشن بی جے پی کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے درمیان صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا، جس کے بعد اسپیکر یو ٹی قادر نے ایوان کی کارروائی دوپہر کے کھانے کے لیے ملتوی کر دی۔
بل پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ اس قانون کا مقصد ایسی نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کو روکنا ہے جو کسی فرد یا گروہ کے خلاف مذہب، ذات، نسل یا برادری کی بنیاد پر نفرت، عداوت اور سماجی انتشار کو ہوا دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون عوامی سطح پر زبانی، تحریری، طباعتی یا الیکٹرانک ذرائع سے کی جانے والی نفرت انگیز ترسیل، اشاعت یا فروغ پر لاگو ہوگا۔ وزیر داخلہ کے مطابق یہ بل نہ صرف مجرموں کو سزا دینے بلکہ متاثرین کو انصاف اور معاوضہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں ذمہ دارانہ اظہارِ خیال اور فرقہ وارانہ رواداری کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے 5 مئی 2025 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں نفرت انگیز زبان کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا گیا تھا۔
بل کے تحت نفرت پر مبنی جرم کے مرتکب شخص کو کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کے ساتھ 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ دوبارہ جرم کی صورت میں کم از کم دو سال سے سات سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ قانون اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے اور اس سے آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اور جرائم سے نمٹنے کے لیے موجودہ قوانین کافی ہیں، ایسے میں نئے قانون کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قانون کے نفاذ سے پولیس کو بے جا اختیارات مل جائیں گے اور یہ اقتدار میں رہنے والوں کے لیے ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔
بحث کے دوران اس وقت ماحول مزید کشیدہ ہو گیا جب شہری ترقیات کے وزیر بی ایس سریش (بیراتی سریش) نے مداخلت کرتے ہوئے ساحلی کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اراکین پر تبصرہ کیا، جس پر اپوزیشن ارکان سخت برہم ہو گئے۔ بی جے پی اراکین نے وزیر سے معافی کا مطالبہ کیا اور اسپیکر کے پوڈیم کے سامنے دھرنا دیا۔ اگرچہ اسپیکر یو ٹی قادر نے اعلان کیا کہ وزیر کا تبصرہ کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا، لیکن احتجاج جاری رہا۔
اسی شور و غوغا کے دوران وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے ایوان سے بل کی منظوری کی اپیل کی، اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اسپیکر نے اعلان کیا کہ بل صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا گیا ہے۔ بعد ازاں بی جے پی اراکین نے مطالبہ کیا کہ بل کو جانچ پڑتال کے لیے اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کیا جائے، تاہم وزیر قانون ایچ کے پاٹل اور اسپیکر نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اسپیکر کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سماجی ہم آہنگی کے تحفظ اور نفرت پر مبنی سیاست و جرائم کے انسداد کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ اپوزیشن نے اسے عجلت میں اور مکمل بحث کے بغیر منظور کیا گیا قانون قرار دیا ہے۔ اس بل کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک بھر میں نفرت انگیز زبان اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر سنجیدہ بحث جاری ہے، اور کرناٹک کے اس اقدام کو دیگر ریاستوں کے لیے ایک ممکنہ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔