بنگلورو، یکم نومبر (ایس او نیوز / ایجنسی) وزیراعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات کے باوجود ریاستی حکومت روزگار کے مواقع ختم ہونے نہیں دے گی بلکہ کنڑ ازبان کو نئی ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ وہ محکمہ تعلیم و خواندگی کی جانب سے منعقدہ 70ویں کنڑا راجیہ اُتسَو کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
سدارامیانے کہا کہ دنیا اب انفارمیشن ٹیکنالوجی سے نکل کر مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ایسے میں روزگار کے مواقع ختم ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ہماری حکومت نے طے کیا ہے کہ کنڑ زبان کو نئی ٹیکنالوجی کی زبان بنایا جائے تاکہ یہ زبان اور اس کے بولنے والے ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست میں 800 کنڑا اسکولوں اور 100 اردو اسکولوں کو کرناٹک پبلک اسکولز (کے پی ایس) کے معیار پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں کنڑ زبان کی تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ اقلیتی برادریاں بھی ریاست کے تعلیمی دھارے سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ اس وقت 180 مدارس میں کنڑ پڑھائی جا رہی ہے، جسے بڑھا کر پورے ریاست کے 1500 مدارس تک وسعت دی جائے گی۔
سدارامیانے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے لیے 483 کروڑ روپے کی لاگت سے 100 اردو اسکولوں کو کے پی ایس معیار پر تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ معیاری تعلیم سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہو۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں اس وقت 3000 سے زائد سرکاری اسکول ایسے ہیں جنہوں نے 100 برس مکمل کر لیے ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2500 کروڑ روپے کی لاگت سے 800 سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات کے ساتھ ترقی دی جائے گی، اور ہر اسکول پر تقریباً 4 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک کی تشکیل کو 69 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور 70ویں سال میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں ان تمام شخصیات کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ریاستی اتحاد کے لیے قربانیاں دیں — جن میں رام سوامی، بلاری کے آنجہانی رمضان صاحب، آلور وینکٹ راؤ، کینگل ہنومنتیا اور دیگر شامل ہیں۔
سدارامیانے کہا کہ کنڑ ازبان اور تہذیب کا ہزاروں سالہ قدیم ورثہ ہے، جسے اب عالمی سطح تک بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم میں مادری زبان کو نظر انداز کرنے سے کئی مسائل نے جنم لیا ہے، لہٰذا مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون کے ذریعے مادری زبان میں تعلیم دینے کے نظام کو نافذ کرے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ہندی اور سنسکرت زبانوں کے فروغ کے لیے فنڈ فراہم کرتی ہے مگر کنڑ اجیسی علاقائی زبانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
سدارامیانے دعویٰ کیا کہ کرناٹک نے فی کس آمدنی میں گزشتہ دس برسوں میں 101 فیصد ترقی حاصل کی ہے۔ ریاست نے مالی سال 2024–25 میں 50,000 کروڑ روپے سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کر کے مہاراشٹر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نندنی برانڈ کے تحت 175 سے زائد دودھ کی مصنوعات ریاست، ملک اور بیرونِ ملک فروخت ہو رہی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ تعلیم کے لیے 65,000 کروڑ روپے سے زائد بجٹ مختص کیا گیا ہے، اور 18,000 سے زیادہ نئے اساتذہ کی بھرتی کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر مالی امتیاز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کرناٹک کو 70,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، اور 15ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
سدارامیانے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیوں سے یہ ریاست بنائی ہے، اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ریاست کو علم، ٹیکنالوجی، انصاف اور انسانیت کے ستونوں پر مزید مستحکم کرے۔