ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں نفرت انگیز بھاشنوں کے خلاف اسمبلی میں بِل پیش؛ اپوزیشن کا واک آؤٹ؛ وزراء نے پوچھا، اس بِل سے بی جے پی کو ڈر کیوں؟

کرناٹک میں نفرت انگیز بھاشنوں کے خلاف اسمبلی میں بِل پیش؛ اپوزیشن کا واک آؤٹ؛ وزراء نے پوچھا، اس بِل سے بی جے پی کو ڈر کیوں؟

Thu, 11 Dec 2025 15:28:39    S O News
کرناٹک میں نفرت انگیز بھاشنوں کے خلاف اسمبلی میں بِل پیش؛ اپوزیشن کا واک آؤٹ؛ وزراء نے پوچھا، اس بِل سے بی جے پی کو ڈر کیوں؟

بیلگاوی 11/ڈسمبر (ایس او نیوز) : کرناٹک کی کانگریس حکومت نے بدھ کے روز ریاستی اسمبلی میں کرناٹک ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائمز (روک تھام و کنٹرول) بل 2025 پیش کیا، جس کے ساتھ ہی بی جے پی ارکان نے شدید نعرے بازی اور احتجاج شروع کردیا۔ یہ بل، جس کی منظوری کابینہ نے چند دن قبل دی تھی، وزیر داخلہ جی. پرمیشورا نے ایوان میں پیش کیا جبکہ قانون کے وزیر ایچ کے پاٹل نے کارروائی کا آغاز کیا۔

جیسے ہی اسپیکر یو ٹی قادر نے بل کی پیشی کے لئے ایوان کی رائے طلب کی، بی جے پی ارکان نے زور دار مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ اسے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ وی سنیل کمار نے ووٹوں کی تقسیم کی درخواست کی، لیکن اسپیکر نے بل پیش کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعد ایوان میں شور بڑھ گیا اور کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑی۔

مسودہ قانون کے مطابق، ہیٹ اسپیچ بِل  کے تعلق سے واضح کیا گیا کہ یہ  ہر اس تقریر، تحریر، علامت، بصری اظہار یا الیکٹرانک پیغام  پر لاگو ہوگا جس کا مقصد مذہب، ذات، برادری، نسل، جنس، جنسی رجحان، زبان، قبیلہ، معذوری، جائے پیدائش یا رہائش کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت یا دشمنی بھڑکانا ہو۔ ایسے مواد کی ترویج، اشاعت یا اکسانے کی کوشش کو ہیٹ کرائم تصور کیا جائے گا۔

پہلی مرتبہ جرم ثابت ہونے پر ایک سے سات سال تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ بار بار جرم کرنے پر دو سے دس سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ بل کے تحت تمام جرائم قابلِ گرفتاری (cognisable) اور ناقابلِ ضمانت ہیں۔ عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کو جرم کے اثرات کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔

اگر کوئی ادارہ ہیٹ کرائم کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے ذمہ داران کو قصوروار تصور کیا جائے گا جب تک کہ وہ یہ ثابت نہ کردیں کہ جرم ان کے علم کے بغیر ہوا یا انہوں نے اسے روکنے کے لئے مکمل کوشش کی تھی۔ بل مزید یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ مجاز افسر، جس کا تقرر ریاستی حکومت کرے گی، کسی بھی سروس پرووائیڈر، پلیٹ فارم یا فرد کو ہدایت جاری کر سکتا ہے کہ وہ اپنے ڈومین یا الیکٹرانک میڈیا سے نفرت انگیز مواد ہٹا دے یا اسے بلاک کر دے۔

اس کے ساتھ ہی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ، اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر انہیں یقین ہو کہ کوئی فرد یا گروہ جرم کرنے والا ہے تو وہ پیشگی کارروائی کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ پرمیشورا نے واضح کیا کہ یہ قانون کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا: “یہ بی جے پی کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور یہ قانون ہر حکومت کے لئے یکساں رہے گا۔ اس میں نہ بی جے پی کا ذکر ہے نہ کانگریس یا جے ڈی ایس کا۔ اسے صرف موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لایا جا رہا ہے اور یہ موجودہ قوانین کو مزید مضبوط کرے گا۔”

ایوان میں بڑھتے احتجاج کے دوران وزیر قانون ایچ کے پاٹل نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی نے کچھ غلط نہیں کیا تو اسے خوف کس بات کا ہے۔ انہوں نے کہا، “آئین پہلے ہی ہیٹ اسپیچ پر پابندی لگاتا ہے، ہم صرف ان اصولوں کو نافذ کر رہے ہیں۔ جو لوگ سماجی ہم آہنگی چاہتے ہیں وہ اس قانون کی مخالفت نہیں کریں گے۔ مخالفت وہی کرے گا جو نفرت پھیلانے اور امن بگاڑنے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔”

کانگریس ایم ایل اے پریانک کھڑگے نے بھی بی جے پی سے سوال کیا کہ وہ آخر کس کی حفاظت کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون عوامی سلامتی کے لیے ہے، سیاسی انتقام کے لیے نہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے الزام لگایا کہ یہ قانون سیاسی آوازوں کو دبانے اور ساحلی علاقوں میں ہندوتوا سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے اسے “سازش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مینگلور سمیت ساحلی خطوں میں حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور بدلے کی وارداتوں نے اس قانون کی ضرورت کو واضح کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست نے حساس علاقوں کی نگرانی کے لیے خصوصی فورس تشکیل دی ہے اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لئے الگ ٹیمیں قائم کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ میں ترمیم سمیت کئی دیگر بل بھی ایوان میں پیش کیے، جن میں یونیورسٹی، مذہبی اداروں، لیبر ویلفیئر، علاقائی ترقیاتی بورڈز اور کرایہ داری قوانین میں اصلاحات شامل ہیں۔

Click here for report in English


Share: