ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جی ایس ٹی اصلاحات ریاستوں کے دباؤ سے، مرکز کے گبر سنگھ ٹیکس نے عوام اور تاجروں کو نقصان پہنچایا: سدارامیا کا الزام

جی ایس ٹی اصلاحات ریاستوں کے دباؤ سے، مرکز کے گبر سنگھ ٹیکس نے عوام اور تاجروں کو نقصان پہنچایا: سدارامیا کا الزام

Sat, 06 Sep 2025 17:15:23    S O News

بنگلورو، 6/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ عوام اور تاجروں پر پڑنے والے مالی بوجھ اور پیچیدہ طریقۂ کار کو کم کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کے طور پر جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے لیے گئے حالیہ فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نریندر مودی حکومت کی نئی ایجاد نہیں ہے۔ 2017 میں جب این ڈی اے حکومت نے عجلت میں خامیوں سے بھرپور جی ایس ٹی نافذ کیا تھا، تبھی لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین نے ضروری اصلاحات پر زور دیا تھا۔سدارامیا نے یاد دلایا کہ کانگریس نے اس ٹیکس کو شروع سے ہی ’’گبر سنگھ ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک کے چھوٹے تاجروں کو تباہ کردے گا۔ ٹیکس ادائیگی کے پیچیدہ نظام اور اخراجات کا بوجھ ان کی زندگی کو مشکلات کے طویل سلسلے میں جکڑ دے گا، لیکن وزیراعظم مودی نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جی ایس ٹی کا پورا ڈھانچہ دراصل مرکز کی گرفت میں ہے اور ریاستی حکومتیں بے بسی کے عالم میں کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ نظام میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے، اس لیے اگر تمام ریاستیں مل کر اصلاحات چاہیں تب بھی مرکز ان کی راہ روک سکتا ہے۔ پچھلے آٹھ سال سے مودی حکومت یہی کرتی آئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ اصلاحات میں مرکز کی حمایت عوامی ہمدردی کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاستی حکومتوں کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اگر یہ قدم آغاز ہی میں اٹھایا جاتا تو عوام کو ’’گبر سنگھ ٹیکس‘‘ کی سختیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

سدارامیا نے کہا کہ اب یہ مرکز اور مرکزی ٹیکس و کسٹمز بورڈ (سی بی آئی سی) کی ذمہ داری ہے کہ اصلاحات کے فوائد براہِ راست عوام تک پہنچیں اور تاجر و صنعتکار اسے صرف اپنے منافع بڑھانے کے لیے استعمال نہ کریں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تازہ حساب کے مطابق ان اصلاحات کی وجہ سے کرناٹک حکومت کو سالانہ 15 سے 20 ہزار کروڑ روپے کے درمیان محصولاتی خسارہ ہوگا۔ اس کے باوجود ریاستی عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، مرکز سے مطالبہ ہے کہ وہ جی ایس ٹی معاوضہ سیس سے ریاست کا جائز حصہ فوری طور پر ادا کرے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ، ٹیکس دہندگان کے دائرے کی توسیع اور معاشی ترقی کے ذریعے سب کو خوشحالی میں شریک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


Share: