بینگلورو 6 / اکتوبر (ایس او نیوز) شہر کے پیلیس گراونڈ میں منعقدہ 'بسوا سنسکرتی ابھیان -2025' کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بالیہ ہیرے مٹھ کے سوامی اور لنگایت مٹھادیش اوکوٹا کے صدر بسوا لنگا پٹادیوا نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت لنگایت کو ایک الگ اور آزاد دھرم کے طور پر منظوری دے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رامیا کی کوششوں کی وجہ سے ریاست میں لنگایت کو ایک الگ مذہب کا درجہ ملا ہے ۔ اب مرکزی سطح پر یہ کام ہونا چاہیے ۔ وہاں سے بھی ایک نہ ایک دن لنگایت کو الگ دھرم کی شناخت مل ہی جائے گی ۔ اسے روکنا اب کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔
سوامی نے کہا کہ جس طرح ہنومان کے سینے میں رام رہتا تھا اسی طرح سدا رامیا کے سینے میں بسونّا رہتا ہے ۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے دوران بسونّا کی حمایت والے دسیوں پروگرام کیے ہیں ۔ بیدر اور بسوا کلیان میں وچنا یونیورسٹی قائم کرنے کا کام باقی ہے ۔ وہاں پر 'وچنا ساہتیہ' کے تعلق سے تحقیق اور تدبر کا کام مسلسل ہونا چاہیے ۔
اس موقع پر بولتے ہوئے ریاستی وزیر برائے بھاری صنعت ایم بی پاٹل نے کہا وزیر اعلیٰ نے ہمارے طبقہ کے لئے لنگایت لیڈروں سے زیادہ کام کیا ہے ۔ سرکاری دفاتر میں بسونّا کی تصاویر آویزاں کرنا، خواتین کی یونیورسٹی کو اکّا مہا دیوی سے منسوب کرنا، بسونّا کو کرناٹکا کے ثقافتی لیڈر کا خطاب دینا جیسے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ لنگایت سماج کو ایسی بہترین خوبیوں والے وزیر اعلیٰ کا ساتھ نباہنا چاہیے ۔
چترادرگہ کے مادر سوامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لنگایت سماج کے لوگ ریاست میں اپنی آبادی کم ہونے کی وجہ سے تشویش کی باتیں کرتے ہیں ۔ اگر بسونّا کی بات پر عمل کرتے ہوئے دلت سماج کے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا کام کیا گیا ہوتا تو آج لنگایتوں کی تعداد 17% کے بجائے 87% تک پہنچ جاتی ۔ مگر کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا ۔ حالانکہ دلت اور پسماندہ طبقات کے سبھی لوگ بسونّا کے ہی بچے ہیں ۔ لنگایت کا مطلب ایک چھوٹی سی ذات نہیں ہے بلکہ ایک ثقافت اور تہذیب کا نام ہے ۔