ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مارکوناہلی ڈیم میں افسوسناک حادثہ: ٹمکورو کے خاندان کے 6 افراد بہہ گئے، تین لاشیں برآمد، دیگر کی تلاش جاری

مارکوناہلی ڈیم میں افسوسناک حادثہ: ٹمکورو کے خاندان کے 6 افراد بہہ گئے، تین لاشیں برآمد، دیگر کی تلاش جاری

Thu, 09 Oct 2025 11:07:17    S O News
مارکوناہلی ڈیم میں افسوسناک حادثہ: ٹمکورو کے خاندان کے 6 افراد بہہ گئے، تین لاشیں برآمد، دیگر کی تلاش جاری

منڈیا، 9؍اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی)ضلع منڈیا میں مارکوناہلی ڈیم کے خودکار دروازے اچانک کھل جانے سے ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جس میں ٹمکورو کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ حادثہ منگل کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب ڈیم مکمل طور پر بھر جانے کے بعد اس کے سلویس گیٹس خود بخود کھل گئے۔ اب تک تین افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ دیگر کی تلاش پولیس اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جاری ہے۔

پولیس کے مطابق مرنے والوں کی شناخت تبسم (45)، ساجیہ (32) اور اربعین (30) کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ شبانہ (44)، چار سالہ مِفرہ اور ایک سالہ محیب تاحال لاپتہ ہیں۔ حادثے میں ایک شخص نواز کو زندہ بچا لیا گیا ہے جو اسپتال میں زیرِ علاج ہے، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ٹمکورو کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اشوک کے۔ وی۔ نے بتایا کہ مہارشی والمیکی جینتی کی تعطیل کے موقع پر بی جی پالیہ سرکل، ٹمکورو سے 15 رکنی خاندان اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ماگڈی پالیہ گاؤں آیا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد خاندان کے کچھ افراد تفریح کے لیے مارکوناہلی ڈیم کے قریب چلے گئے، جہاں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

یہ ڈیم 1930 کی دہائی میں مشہور انجینئر سر ایم۔ وشویشوریا کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں خودکار سائفون نظام نصب ہے، جو پانی مکمل بھر جانے پر دباؤ کے باعث دروازے خود بخود کھول دیتا ہے۔ پولیس کے مطابق ماضی میں بھی اس مقام پر کسی انتباہی سائرن یا وارننگ سسٹم کا انتظام نہیں رہا، جس کے باعث عوام اکثر خطرے سے بے خبر رہتے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے کہا کہ "ڈیم کے اطراف حفاظتی باڑ لگانا ناگزیر ہے تاکہ لوگ پانی کے قریب جانے سے گریز کریں، صرف پولیس تعینات کرنا کافی نہیں۔"

حادثے سے چند لمحے قبل خاندان کے افراد کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ دریا کے کنارے پانی میں کھیلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم و صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

مقامی باشندوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچاؤ کے لیے سائرن یا انتباہی نظام فوری طور پر نصب کیا جائے۔


Share: