میسورو، 23؍ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی):وزیراعلیٰ سدارامیا نے وزیراعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی کو نافذ کرنے والے بھی مودی ہیں، اس پر بھاری شرحیں عائد کرنے والے بھی وہی ہیں اور اب اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش بھی وہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ آٹھ برسوں تک مودی حکومت نے جی ایس ٹی کے نام پر عوام سے بے تحاشہ ٹیکس وصول کیا اور اب اسی رقم کو واپس دینے کی بات کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
سدارامیا نے میسورو کے مہاراجہ کالج میدان میں دسہرا فوڈ میلہ کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ "جی ایس ٹی 18 فیصد اور 28 فیصد تک بڑھانے کی ہم نے مخالفت کی تھی، مگر آج وہی لوگ عوام کو دھوکہ دے کر کریڈٹ لے رہے ہیں۔ یہ عوام کے ساتھ باریکی سے ٹوپی رکھنے کے مترادف ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے غریب عوام کو خالی پیٹ سونے سے بچانے کے لیے انا بھاگیہ اسکیم کے تحت دس کلو چاول مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو عوامی مفاد میں ایک بڑا قدم ہے۔
بانو مشتاق کے ذریعے دسہرا کے افتتاح پر اٹھائے گئے تنازع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے ان لوگوں کو جھٹکا دیا ہے جنہوں نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "میرے نام میں ہی دو دیوتاؤں کے نام شامل ہیں، ’سدار‘ یعنی شیو اور ’رام‘ یعنی وشنو۔ ایسے میں جو لوگ مجھے ہندو مخالف قرار دینے کی کوشش کرتے تھے، وہ ناکام ہوگئے۔ میں ان سابق ارکان پارلیمان سے زیادہ بہتر ہندو ہوں جنہوں نے بانو مشتاق کی مخالفت کی۔"
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنہیں یہ تک علم نہیں کہ دسہرا ایک ریاستی تہوار ہے، وہی لوگ مخالفت میں سامنے آئے تھے، لیکن آئین اور عدلیہ نے واضح کر دیا ہے کہ اس طرح کا رویہ کسی حال میں قابلِ قبول نہیں۔