بنگلورو ، 8/ جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار نے اشارہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں جنتا دل (سیکولر) کے بی جے پی میں ضم ہونے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں پارٹیاں انضمام کا فیصلہ کر لیں تو یہ کانگریس کے لیے بھی بہتر ہوگا، کیونکہ اس سے سیاسی میدان میں موجود ابہام ختم ہو جائے گا۔
جمعرات کے روز کے پی سی سی دفتر میں چامراج پیٹ اسمبلی حلقے کے جے ڈی ایس رہنما گووندراج کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا:ض“کمار سوامی کے حالیہ طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جے ڈی ایس جلد ہی بی جے پی میں ضم ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں بھی سہولت ہوگی اور ہم براہِ راست بی جے پی کے خلاف مقابلہ کر سکیں گے۔ تب یہ صورتحال نہیں رہے گی کہ کھیل میں تین پارٹیاں ہوں اور حساب میں صرف دو۔” ڈی کے شیوکمار نے کانگریس میں شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چامراج پیٹ کے سابق جے ڈی ایس کارپوریٹر گووندراج، ان کی اہلیہ گورماں، چندرشیکھر، سابق جے ڈی ایس صدر ڈیوڈ سمیت سیکڑوں کارکنان نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گووندراج ان کے خاندانی دوست ہیں اور طویل عرصے تک جے ڈی ایس کو منظم کرنے میں سرگرم رہے، مگر بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان بڑھتی قربت کو قبول نہ کر پانے کے سبب انہوں نے کانگریس کا رخ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس ایک سیکولر نظریہ رکھنے والی جماعت ہے، اسی وجہ سے جے ڈی ایس کے کئی رہنما کانگریس سے جڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔“بی جے پی اور جے ڈی ایس جتنی جلدی انضمام کا فیصلہ کریں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ اس وقت وہ درمیان کی کیفیت میں سیاست کر رہے ہیں، جس کا اعتراف خود ان جماعتوں کے رہنما بھی کر رہے ہیں۔”ڈی کے شیوکمار نے بنگلور کارپوریشن انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں انتخابات قریب ہیں اور کانگریس کے ٹکٹ کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلور مغربی زون سے 247، شمالی زون سے 199، جنوبی زون سے 129، مرکزی زون سے 106 اور مشرقی زون سے 78 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 779 ٹکٹ کے خواہشمندوں نے درخواست دی ہے۔انہوں نے ٹکٹ کے خواہشمندوں سے اپیل کی کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں اور 10 جنوری تک درخواستیں جمع کروائیں تاکہ پارٹی زمینی سطح پر کارکنوں کی کارکردگی، وفاداری اور عوامی رابطے کا جائزہ لے سکے۔ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بنگلور میں کانگریس حکومت کے ترقیاتی کاموں کو بی جے پی کے رہنما بھی سراہ رہے ہیں۔“پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا گیا ہے، سڑکیں بن رہی ہیں، کھاتہ تبدیلی اور جائیداد کے ریکارڈ درست کیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے بعض رہنما خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کا مستقبل تاریک ہے۔”انہوں نے بی جے پی اور جے ڈی ایس کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ“فرینڈلی فائٹ کی باتیں نہ کریں، اگر ہمت ہے تو براہِ راست مقابلہ کریں۔ سیٹوں کی تقسیم کر کے متحد ہو کر الیکشن لڑیں، ہم اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
آخر میں ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق عدالت میں حلف نامہ داخل کر دیا ہے اور اس سال کو انتخابی سال قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر عوامی خدمت میں جُت جائیں اور آنے والے انتخابات کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔