ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / گنے کی قیمتوں میں اضافے کے مطالبے پر باگل کوٹ میں کسانوں کا زبردست احتجاج، مدھول۔جمکھنڈی شاہراہ بند

گنے کی قیمتوں میں اضافے کے مطالبے پر باگل کوٹ میں کسانوں کا زبردست احتجاج، مدھول۔جمکھنڈی شاہراہ بند

Thu, 13 Nov 2025 11:42:34    S O News

بنگلورو، 13/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست کے ضلع باگل کوٹ میں گنے کے کاشتکاروں نے  بڑے پیمانے پر احتجا ج کرتے ہوئے مدھول  اور جمکھنڈی کے درمیان مرکزی شاہراہوں کو بلاک کردیا ۔ کسانوں کا کہنا  ہے کہ جب تک گنے کی قیمت فی ٹن 3500 روپئے مقر نہیں کی جاتی ، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ احتجا ج کے باعث  مدھول ۔ جمکھنڈی اور بودنی پی ایم سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل رہی۔ دکانیں بندرہیں اور مقامی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ۔ کسانوں کی بڑی تعداد ٹریکٹروں ، بیل گاڑیوں اور ہاتھوں میں بینر لئے  سڑکوں پر جمع ہوئی ۔

کسانوں کا مؤقف ہے کہ شکر ملوں نے فی ٹن 3300 روپئے  کی پیشکش کی ہے، لیکن ’’ریکوری ریٹ‘‘ ( گنے سے حاصل ہونے والی شکر کی مقدار ) کا درست حساب کئے بغیر  قیمت طے کرنا ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی اور پیداواری اخراجات میں اضافے کے پیش نظر 3500 روپئے فی  ٹن سے کم قیمت قبول  نہیں ۔ ضلعی انتظامیہ کی زیر صدارت کسان رہنماؤں اور شکر مل مالکان کے درمیان میٹنگ ہوئی، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا ۔ اس کے بعد ناراض کسانوں نے سڑکوں پر دھرنا دے دیا اور راستے بند کردیئے۔

کسان رہنما کوڈی ہلی چندر شیکھر نے کہا کہ ’’گنے کی قیمت غیر سائنسی بنیادوں پر طے کی جارہی ہے، جس سے کسانوں کو زبردست  نقصان  ہورہا ہے۔    ہم مطالبہ کرتے ہیں  کہ ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں  کسان ، ماہرین ، شکر ملوں کے نمائندے اور حکومتی افسران شامل ہوں تا کہ قیمت کا تعین شفاف انداز میں ہو ‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ احتجا ج کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ کسانوں کے وجود کی جنگ ہے۔ جب تک انصاف نہیں ملتا ، راستے کھلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

حکومتی و انتظامی ردعمل : شکر مل انتظامیہ نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں 3300 روپئے فی ٹن سے زیادہ نہیں  دے سکتے ، تاہم کسانوں کے اعتراضات حکومت تک پہنچا دئے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے کسانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے  کہ ان کے مطا لبات ریاستی حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔ شام تک مدھول ۔ جمکھنڈی شاہراہ مکمل طور پر بندرہی  اور ٹرافک کئی گھنٹوں تک رکی رہی ۔ پولیس نے حالات قابو میں رکھنے کے لئے اضافی فورس تعینات کی۔

ذرائع کے مطابق، اگر حکومت نے آئندہ 48 گھنٹوں میں قیمت کا فیصلہ نہ کیا تو کسانوں نے ریاست گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ گنے کے نرخ  پر جاری یہ تنازعہ اب ریاستی سطح پر سنگین رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ کسان اپنی بقا کے لئے  سڑکوں پر ہیں۔ شکر مل مالکان پیداواری لاگت کا بہانہ پیش کررہے ہیں، اور حکومت دباؤ میں ہے کہ وہ دونوں کے درمیان ایک منصفانہ حل تلاش کرے۔ 


Share: