ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے ایک ہندو مذہبی اسکول کے طالب علم پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اُستاد گرفتار، اسکول کی سرگرمیوں کو کیا گیا محدود

کرناٹک کے ایک ہندو مذہبی اسکول کے طالب علم پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اُستاد گرفتار، اسکول کی سرگرمیوں کو کیا گیا محدود

Thu, 23 Oct 2025 13:23:31    S O News
کرناٹک کے ایک ہندو مذہبی اسکول کے طالب علم پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اُستاد گرفتار، اسکول کی سرگرمیوں کو کیا گیا محدود

چتردرگہ، 23؍اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک کے چتردرگہ ضلع میں ایک سنسکرت اسکول کے اُستاد کو ایک 9 سالہ طالب علم پر بہیمانہ تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ کئی ماہ قبل، فروری میں، پیش آیا تھا، مگر اس کا انکشاف اُس وقت ہوا جب پیر کے روز واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

پولیس کے مطابق ملزم اُستاد کی شناخت ویر یش ہیری مٹھ (Veeresh Hiremath) کے طور پر کی گئی ہے، جو نایکنہٹی، تعلقہ چلکیرے کے سنسکرت ویدادھیائن رہائشی اسکول میں پڑھاتا تھا۔ یہ اسکول ہندو مذہبی ادارہ جات اور چیریٹیبل اینڈاؤمنٹس ڈپارٹمنٹ کے تحت گرو تھیپرودر سوامی مندر سے منسلک ہے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ  اُستاد ایک 9 سالہ طالب علم ترُون پر نہایت ظالمانہ انداز میں تشدد کر رہا ہے — پہلے اسے چھڑی سے مارتا ہے، پھر زمین پر گرا کر اس کے پیٹ پر لات مارتا ہے، اور دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے: “اگر تم کسی اور نمبر سے فون کرو گے تو تمہیں زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔”

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ استاد نے بچے پر تشدد اس وقت کیا تھا جب معصوم طالب علم ترُون نے گھر کی یاد میں اپنی دادی کو فون کیا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعہ کی ویڈیو اسکول کے ہی ایک دوسرے طالب علم نے موبائل پر ریکارڈ کی تھی۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ملزم اُستاد فرار ہوگیا تھا، مگر پولیس نے اسے کلبرگی سے گرفتار کر کے چتردرگہ منتقل کیا۔

واقعہ کے بعد اسکول کے منتظم گنگادھرپا (ایگزیکٹیو آفیسر آف گرو تھیپرودر سوامی ٹیمپل) نے ملزم کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بی ٹی کمارسوامی کے مطابق اُستاد کو معطل کر دیا گیا ہے، جو مذکورہ محکمہ کے تحت تعینات تھا۔ ڈپٹی کمشنر ٹی وینکٹیش نے بتایا کہ تحصیلدار اور دیگر افسران کی رپورٹ کی بنیاد پر اُستاد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تحصیلدار، بی ای او، ڈی ڈی پی آئی، چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم آفیسر اور مندر کے ایگزیکٹیو آفیسر سے تفصیلات حاصل کی گئیں۔ اس دوران یہ بھی سامنے آیا کہ واقعہ کے وقت اسکول میں 30 طلبہ زیر تعلیم تھے، مگر اب تعداد گھٹ کر صرف 4 رہ گئی ہے۔ ان بچوں کو ضلع چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈی سی نے مزید بتایا کہ مندر کے ایگزیکٹیو آفیسر نے واقعہ کی اطلاع ضلعی انتظامیہ کو نہیں دی تھی، جس پر اُس کے خلاف غفلت برتنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ واقعہ کی تفصیلات کے ساتھ ایک رپورٹ حکومت کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

متاثرہ طالب علم ترُون اس واقعہ کے بعد سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہوا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس نے خودکشی کی بھی کوشش کی تھی، تاہم اسے بروقت بچا لیا گیا۔ فی الحال وہ اپنے آبائی مقام پر کسی دوسرے اسکول میں تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس اندوہناک واقعہ کے بعد مقامی عوام نے اسکول کے باہر احتجاج کیا اور انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔ خواتین و اطفال کی بہبود کی وزیر لکشمی ہیبّالکر سمیت کئی سرکاری افسران نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے نظام کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار دیا ہے۔


Share: