چکمگلورو یکم / نومبر (ایس او نیوز) ریاست کے دو الگ الگ مقامات پر پیش آئے ہوئے جنگلی ہاتھیوں کے حملے میں ایک ہی دن کے اندر تین افراد ہلاک ہوگئے ۔
پہلا معاملہ شرنگیری تعلقہ کے کیرے کٹّے گرام پنچایت علاقے کا ہے جہاں جنگلی ہاتھیوں کے حملے کی وجہ سے اومیش (54 سال) اور ہریش شیٹی (43 سال) نامی دو افراد نے اپنی جان گنوائی ۔ ہریش شیٹی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مویشی کے لئے چارہ لینے کی غرض سے جنگل گیا تھا اور جب وہ گھر کی طرف واپس لوٹ رہا تھا تو اچانک ہاتھی نے اس پر حملہ کر دیا ۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ ہریش نے موقع پر ہی دم توڑ دیا ۔
ہاتھی کے حملے کے دوران کتوں کے بھونکنے کی آواز سن کر اومیش جنگل کی طرف دوڑ پڑا تو ہاتھی نے اومیش پر بھی حملہ کر دیا اور اس نے بھی موقع پر ہی دم توڑ دیا ۔
ان وارداتوں کے خلاف سیکڑوں افراد نے نیشنل ہائی وے 169 پر دھرنا دیتے ہوئے راستہ روکو احتجاج کیا ۔ ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے اور ان گھر کے فرد کو سرکاری نوکری دینے جیسے مطالبہ کے ساتھ وزیر جنگلات، ضلع انچارج وزیر، رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان موقع پر پہنچ کر ان کے مسائل سننے تک لاشیں نہ اٹھانے کی ضد پر اڑے رہے ۔ موقع پر پہنچنے والے تحصیلدار، محکمہ جنگلات اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ دوپہر کے وقت بالآخر سرکاری افسران اور مقامی ایم ایل اے مظاہرین کو سمجھا بجھا کر احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کر لیا ۔
کیریکٹَے گرام پنچایت کے راجیش دیاونٹ نے کہا کہ اس علاقے میں جنگلی جانوروں سے یہاں رہنے والوں کے لئے مسائل بڑھ گئے ہیں ۔ تعلقہ میں جنگلی ہاتھی کے حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کا یہ دوسرا معاملہ ہے ۔ دو سال قبل ایسے ہی حملے میں کرشنپّا نامی ایک شخص کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ اس علاقے میں بسنے والے 538 خاندانوں کے لئے حکومت کی طرف سے معاوضہ دے کر باز آبادکاری کا منصوبہ بنانا چاہیے ۔
اس معاملے پر بولتے ہوئے شرنگیری کے ایم ایل اے ٹی ڈی راجے گوڑا نے کہا کہ ایسا معاملہ دوبارہ پیش آنے سے روکنے کے لئے اقدامات کیے جائے رہے ہیں ۔ جنگلی ہاتھی کو پکڑنے کی کارروائی کی جائے گی ۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزیر برائے محکمہ جنگلات کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔
انہوں نے جنگلی ہاتھی کے حملے میں ہلاک ہونے والے دونوں کو افراد کو سرکاری معاوضہ کے طور پر فی کس 20 لاکھ روپے، محکمہ جنگلات کی طرف سے 3 لاکھ روپے اور ان کے اپنے ذاتی فنڈ سے 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔