میسورو 5 جنوری (ایس اونیوز) جدید علم کو اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑنے والا تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہےاور اقدار پر مبنی تعلیم ہی قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔ یہ بات کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت نے کہی۔ میسورو یونیورسٹی کے 106ویں سالانہ کانووکیشن کی صدارت کرتے ہوئےگورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری تہذیب ہمیشہ عالمی اخوت، عالمی امن، مساوات اور ہم آہنگی کی علمبردار رہی ہے۔ جدید علم کو اقدار کے ساتھ مربوط کرنے والا تعلیمی نظام نہ صرف مذہب اور ثقافت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ قومی اتحاد و سالمیت کے استحکام، سماجی مساوات اور ہم آہنگی کے فروغ کے ساتھ ساتھ دنیا کو ایک مثبت سمت دینے میں بھی معاون ہوگا۔ انہوں نے نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کو اسی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔
گورنر نے کہا کہ بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کے اس دور میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہے۔ آج کی دنیا تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، جہاں سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز ہمیں مہارت، بصیرت اور اخلاقی طرزِ عمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک ریاست نے ہمیشہ علم، جدت طرازی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت ریاست انفارمیشن ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، خلائی سائنس، اسٹارٹ اپ کلچر اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں ملک میں صفِ اول میں ہے۔ پراعتماد نوجوان نسل ہی “ترقی یافتہ بھارت” کے خواب کی نمائندہ ہے، اور اس ہدف کے حصول میں علم، محنت اور فرض شناسی کلیدی کردار ادا کریں گے۔
گورنر تھاورچند گہلوت نے آئینِ ہند میں درج بنیادی حقوق اور بنیادی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد و سالمیت کا تحفظ، سائنسی طرزِ فکر کو فروغ دینا اور عوامی املاک کی حفاظت ہر تعلیم یافتہ شہری کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان فرائض کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے سے بھارت علمی دولت سے مالا مال رہا ہے۔ ویدک دور سے لے کر آج تک، فلکیات، ارضیات، ریاضی، طب اور دیگر کئی شعبوں میں ہندوستانیوں نے بے مثال علم جمع کیا ہے، جس کی عالمی سطح پر اہمیت مسلم ہے۔ گورنر نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج حاصل کی گئی ڈگریاں آپ کی تعلیمی کامیابی، تحقیق، نظم و ضبط اور فکری برتری کی علامت ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے علم اور صلاحیتوں کو ذاتی ترقی کے ساتھ ساتھ سماج، ریاست اور قوم کی مجموعی فلاح کے لیے استعمال کریں۔
اس موقع پر مذہب، ثقافت، سماج اور ملک کی فلاح کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات ایس وی راجندر سنگھ بابو، ڈاکٹر ٹی شام بھٹ اور پی جے چندرا راجو کو یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگریاں عطا کی گئیں۔ گورنر نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی سماج اور ملک کی خدمت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے میسورو یونیورسٹی کو بھارت کی قدیم اور باوقار جامعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمیشہ علم و تعلیم کو خدمت، تحقیق، سماجی شعور اور قومی ذمہ داری کے ساتھ جوڑتا رہا ہے۔ یہ یونیورسٹی نالواڈی کرشن راج وڈیئر، سر ایم وشویشوریا، کویمپو اور ڈی وی گنڈپا جیسے عظیم مفکرین اور قوم ساز شخصیات کی سرزمین پر قائم ہے، جنہوں نے بھارت کی فکری شناخت کو عالمی سطح پر مستحکم کیا۔ 106ویں کانووکیشن کے ذریعے میسورو یونیورسٹی ایک بار پھر علم، روایت اور جدیدیت کے حسین امتزاج کی گواہ بنی ہے۔
آخر میں گورنر نے طلبہ کو نصیحت کی کہ ناکامیوں سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ ناکامی سیکھنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں اور اپنے علم کو سماج کے آخری فرد تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے طلبہ کی کامیابی میں والدین، اساتذہ اور یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا اور تمام ڈگری و گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی۔
اس کانووکیشن تقریب میں وزیر ایم سی سدھاکر، اسرو کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سوم ناتھ، وائس چانسلر این کے لوکناتھ اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔