ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / وی بی جی رام جی بل آئین کے خلاف، منریگا کو ختم کرنے کی سازش: پریانک کھرگے

وی بی جی رام جی بل آئین کے خلاف، منریگا کو ختم کرنے کی سازش: پریانک کھرگے

Sun, 28 Dec 2025 17:22:26    S O News

بنگلورو ، 28/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ریاستی وزیرِ دیہی ترقیات و پنچایت راج پریانک کھرگے نے مودی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے وی بی جی رام جی بل کو دیہی ہندوستان کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کے ذریعے منریگا جیسے آئینی روزگار ضمانتی قانون کو عملاً ختم کر دیا گیا ہے۔

پریانک کھرگے نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں کسی سنجیدہ بحث کے بغیر یہ بل منظور کیا اور منریگا میں ’’اصلاحات‘‘ کے دعوے کیے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ اس میں کوئی اصلاح کی گئی اور نہ ہی مزدوروں کو بااختیار بنایا گیا، بلکہ ان سے روزگار کی آئینی ضمانت چھین لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 19 سے 20 برسوں سے منریگا دیہی علاقوں میں زندگی گزارنے کی ضمانت رہا ہے، مگر اب اسے طلب پر مبنی اسکیم سے تقسیم پر مبنی عام سرکاری اسکیم بنا دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ قانون نہیں بلکہ محض ایک اسکیم بن کر رہ گیا ہے۔

پریانک کھرگے کے مطابق اس بل کے ذریعے تین بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔زندگی اور روزگار کا حق، پنچایتوں کے اختیارات، اور ریاستوں کے مالی حقوق۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں سے مشورہ کیے بغیر ان پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے منریگا کے تحت روزگار ہر شہری کا حق تھا، مگر اب مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر کام نہیں ملے گا۔

نئے قانون کے سیکشن 5 کے تحت ریاستوں کو مرکز کی جانب سے مختص کردہ رقم کے دائرے میں ہی کام کرنا ہوگا۔ اس سے قبل منریگا جاب کارڈ رکھنے والا مزدور کہیں بھی کام کر سکتا تھا، مگر اب یہ حق ختم کر دیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ نئے قانون کے مطابق زرعی مصروف اوقات میں 60 دن منریگا کے تحت کام نہیں ملے گا، جس کے نتیجے میں مزدور کم اجرت پر زمینداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور کم از کم اجرت کا تحفظ بھی ختم ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہر سال منریگا کی اجرت میں نظرثانی ہوتی تھی، مگر اب یہ شق بھی ہٹا دی گئی ہے۔ پنچایتوں کو فیصلوں سے بے دخل کر کے تمام اختیارات دہلی میں بیٹھے حکام کے ہاتھ میں دے دیے گئے ہیں، اور منصوبے کو پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان سے جوڑ دیا گیا ہے، جو دیہی حقیقتوں سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔

پریانک کھرگے نے انکشاف کیا کہ منریگا جو پہلے 100 فیصد مرکزی فنڈ سے چلنے والا منصوبہ تھا، اب اسے 60:40 کے تناسب سے ریاستی بوجھ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اضافی اخراجات بھی ریاستوں کو ہی برداشت کرنے ہوں گے۔ٹیکنالوجی کے نام پر مزدوروں کو روزگار سے محروم کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بایومیٹرک، جیو میپنگ اور اے آئی جیسے نظام کے باعث کئی ریاستوں میں 38 تا 63 فیصد مزدوروں کو اجرت تک نہیں ملی، جو دیہی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منریگا کے ذریعے دیہی اثاثے تخلیق کیے جاتے تھے، گرام سبھاؤں میں فیصلے ہوتے تھے، گزشتہ ڈھائی برس میں 17 لاکھ دیہی اثاثے بنائے گئے اور 80 لاکھ خاندانوں کو روزگار فراہم کیا گیا، مگر اب ٹھیکیداری نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو اس منصوبے کی روح کے خلاف ہے۔

پریانک کھرگے نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 280 اور 258 کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور 16ویں مالیاتی کمیشن کو اعتماد میں لیے بغیر ریاستوں پر مالی ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس نئے نظام سے دیہی علاقوں میں بے روزگاری بڑھے گی، استحصال میں اضافہ ہوگا، اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت (58 فیصد) بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ مخالفت صرف گاندھی جی کے نام ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ دیہی ہندوستان کے روزگار، پنچایتوں کی خودمختاری اور ریاستی حقوق کے دفاع کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کسان قوانین واپس لیے گئے، اسی طرح یہ عوام دشمن قانون بھی واپس لینا پڑے گا۔


Share: