ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کیا ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی کارروائی صرف الند حلقہ تک محدود نہیں تھی؟ کیا واقعی “ووٹ چوری” سے انتخابات جیتے جاتے ہیں؟

کیا ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی کارروائی صرف الند حلقہ تک محدود نہیں تھی؟ کیا واقعی “ووٹ چوری” سے انتخابات جیتے جاتے ہیں؟

Mon, 27 Oct 2025 13:33:41    S O News

بنگلور 27/اکتوبر (ایس او نیوز): 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل الند حلقہ میں ووٹر لسٹ سے غیر قانونی طور پر ناموں کو حذف کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک حلقہ تک محدود نہیں تھی۔ تفتیش کے دوران اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ کلبرگی ضلع کے دیگر دو حلقوں میں بھی ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، کلبرگی میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر کے ذریعے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے آن لائن درخواستیں بڑی تعداد میں جمع کرائی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کلبرگی کے کئی بی جے پی لیڈران نے اس سینٹر سے رابطہ کرکے ووٹر فہرست میں تبدیلیاں کرائی تھیں۔ ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ کلبرگی کے ایک اور حلقہ کے امیدوار کی جانب سے بھی ووٹر لسٹ میں رد و بدل کے لیے اس ڈیٹا سینٹر کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کیا گیا تھا۔

ابتدائی تحقیق میں معلوم ہوا کہ گلبرگہ شہر کے ایک حلقہ میں تقریباً 35 ہزار ووٹروں کے نام حذف کرنے کا نشانہ بنایا گیا، جن میں زیادہ تر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ووٹر شامل تھے۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے فنڈز کلبرگی کے ایک اکاؤنٹنٹ کے ذریعے فراہم کیے گئے، جس کا لیپ ٹاپ SIT نے ضبط کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اس ڈیٹا سینٹر کے اسٹاف کو ہر درخواست پر 80 روپے دیے جاتے تھے۔ یہ سینٹر مقامی رہائشی محمد اشفاق اور اس کے ساتھی محمد اکرم چلا رہے تھے۔ اشفاق سے گزشتہ سال پوچھ گچھ کی گئی تھی جس کے بعد وہ دبئی منتقل ہوگیا۔ مزید تین ڈیٹا انٹری آپریٹرز سے بھی پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔

اگرچہ SIT نے الند حلقہ میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے ثبوت اکٹھا کرلیے ہیں، تاہم دیگر حلقوں میں مبینہ ہیرا پھیری کی تحقیقات فی الحال ان کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔

یہ معاملہ اس وقت قومی سطح پر سامنے آیا جب راہول گاندھی نے اسے “ووٹ چوری” کی مثال قرار دیا۔ ریاستی وزیر پریانک کھڑگے نے کہا کہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بی جے پی لیڈران اور ان کے معاونین اس سازش میں شامل تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہر ملوث فرد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب، بی جے پی لیڈر چندر کانت پاٹل نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی بی جے پی کارپوریٹرز نے ووٹر لسٹ میں “قانونی اصلاحات” کرائی تھیں اور مقصد صرف ڈپلیکیشن کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس بھی اقلیتی ووٹ بینک میں ہیرا پھیری کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الند حلقہ کے کانگریس امیدوار بی آر پاٹل نے ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں تحقیق میں پتہ چلا کہ 254 بوتھوں میں 6,600 سے زائد ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جانچ کے بعد صرف 24 ناموں کے حذف کا جواز درست پایا گیا۔


Share: