بنگلورو، 18؍ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیر اعظم نریندر مودی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر جہاں بی جے پی نے پورے ملک میں ’’سیوا پکھواڑا‘‘ کا اہتمام کیا، وہیں یوتھ کانگریس نے اسے ’’قومی یومِ بے روزگاری‘‘ کے طور پر مناتے ہوئے انوکھا احتجاج کیا۔
بنگلورو میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن کے دفتر کے سامنے یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر منجوناتھ گوڑا کی قیادت میں کارکنوں نے پکوڑے بنا کر فروخت کیے اور مرکزی حکومت کی روزگار پالیسیوں کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ یہ احتجاج آل انڈیا یوتھ کانگریس کے صدر اُدے بھانو چب کے حکم کے تحت ملک گیر سطح پر منعقدہ تحریک کا حصہ تھا۔
یوتھ کانگریس کے صدر منجوناتھ گوڑا نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم مودی نے نوجوانوں سے روزگار دینے کے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے، بلکہ نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے طنز کیا کہ ’’جب نوجوانوں نے روزگار مانگا تو کہا گیا پکوڑا بیچنا بھی ایک کام ہے۔ آج ملک کے لاکھوں نوجوان اسی حالت کو جھیل رہے ہیں کہ انہیں پکوڑے بیچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے،‘‘۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری عروج پر ہے اور نوجوان بڑی تعداد میں بیرونِ ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتِ حال کے لئے براہِ راست ذمہ دار وزیر اعظم مودی ہیں، جن کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک میں روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں۔
منجوناتھ گوڑا نے کرناٹک سے راجیہ سبھا کی رکن اور مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’وہ محض وقت گزاری کی کہانیاں سنانے میں مصروف ہیں جبکہ ملک کو بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کی طرح معاشی بحران اور بدانتظامی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘
یوتھ کانگریس صدر نے مزید کہا کہ کرناٹک حکومت کی گارنٹی اسکیموں سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی ان اسکیموں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دیہی روزگار اسکیم (نریگا) کے فنڈ میں کمی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں یوتھ کانگریس کارکن شریک ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بلند کیے۔