بنگلورو، 29 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) بنگلورو کی معروف PES یونیورسٹی میں ایک مسلم طالب علم کے ساتھ مبینہ طور پر توہین آمیز اور امتیازی سلوک کے واقعہ نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ اس معاملے نے طلبہ کے احتجاج، انتظامیہ کی کارروائی اور قانونی مطالبات کی صورت اختیار کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 تا 27 مارچ کے درمیان پیش آئے اس واقعہ میں پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر دیشپانڈے پر الزام ہے کہ انہوں نے کلاس روم کے دوران مسلم طالب علم عفان کو تقریباً 60 طلبہ کے سامنے کم از کم 13 مرتبہ “دہشت گرد” کہہ کر مخاطب کیا۔ اس دوران مبینہ طور پر انہوں نے دیگر نازیبا اور متنازعہ جملے بھی استعمال کیے، جن میں “ایران کی جنگ تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہوئی”، “ٹرمپ تمہیں اٹھا لے جائے گا” اور “تم احمق ہو، جہنم میں جاؤ گے” جیسے ریمارکس شامل ہیں، جس سے کلاس کا ماحول انتہائی کشیدہ اور غیر آرام دہ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی ویڈیو بعض طلبہ نے موبائل فون میں ریکارڈ کی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد عوامی سطح پر غم و غصہ بڑھ گیا۔ دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج کے حذف کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
واقعہ کے بعد بعض طلبہ نے متاثرہ طالب علم عفان کی حمایت میں آواز اٹھائی، مگر الزام ہے کہ انہیں “کلاس کے دوران بات کرنے” کے جواز پر معطل کر دیا گیا، جس پر مزید تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ بعد ازاں طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
اس معاملے میں طلبہ تنظیموں نے بھی سرگرمی دکھائی ہے۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے شکایت درج کرائی ہے، جبکہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار پروفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر دیشپانڈے کو معطل کر دیا ہے۔ 27 مارچ کو جاری حکم کے مطابق، طالب علم کی شکایت کی بنیاد پر مکمل تحقیقات تک معطلی نافذ رہے گی۔
اگرچہ پروفیسر کی جانب سے انتظامیہ کو معذرت نامہ پیش کیے جانے کی اطلاع ہے، تاہم بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے براہ راست متاثرہ طالب علم سے معافی نہیں مانگی، بلکہ شعبہ کے سربراہ کے ذریعے معذرت پیش کی گئی۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ طالب علم پر بالواسطہ دباؤ ڈال کر معاملہ ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
واقعہ کے بعد نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ تعلیمی اداروں میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کا ماحول برقرار رکھا جا سکے۔